ایک رات دو نکاح – urdu kahani ik raat do nikah

ایک رات دو نکاح
Written by kahaniinurdu

?ایک رات دو نکاح 
سندس تین بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی۔ خؤبصورت دلکش حسین گھر بھر کی لاڈلی اپنی مرضی سے رہتی اس کو سجنے سنورنے کا بڑا شوق تھا۔ گھنٹوں آئنے کے سامنے بیٹھی رہتی اس کے بال بھی بڑے خؤبصورت تھے ۔گھنگریالے چمکدار لمبے گھنے سندس کی امی کی خواہش تھی کہ اس کی شادی اپنوں میں ہوجائے۔ تاکہ ہماری آنکھوں کے سامنے رہے ایک بیٹآ ثآقب ملک سے باہر تھا۔ اور دوبیٹےکاشف عاطف ابھی پڑھ رہے تھے سندس بھی ابھی ایف اے میں تھی۔


مگر سندس کے بھائی ثاقب کی مرضی تھی کہ جب تک میں باہر ہوں تب تک ایک اچھا سا گھر لے لیا جائے ۔اور سندس کا رشتہ اپنوں میں ہوجائے۔ اور جب تک وہ واپس آئے تب سندس رخصت ہو کہ اپنے گھر کی ہوجائے ۔مگرکوئی بھی فیملی میں سے رشتہ لینے کوراضی نہیں تھا۔ ایک تو وہ چھوٹی تھی دوسرا ان میچور تھی گھر نہیں سنبھال سکتی تھی۔


پھر اچانک سندس کے لیے رشتہ مل ہی گیا مگر وہ کوئی دور پار سے تھا ۔ان کو لڑکی خوبصورت چاہیے تھی اور کوئی ڈیمانڈ نہیں تھی ۔لڑکا دوبئ سیٹل تھا اوربیاہ کے باہر لے جاتارشتہ طے ہوگیا۔ سندس کے گھروالوں نے اپنا گھر لینے کا سوچا ۔ایک اچھا گھر جو دو منزلہ پر مشتمل تھا مل گیا گھر کی چھت کے ساتھ منسلک ایک نیم کا درخت تھا۔ جو کہ گھر کی چھت پر سایہ کیے ہوئے تھا۔


سندس کی شادی کی تاریخ رکھ دی گئ۔  سندس کا جب سے رشتہ طے ہوا تھا وہ تو زیادہ ہی پیاری ہوتی جا رہی تھی ۔اور جنہوں نے رشتہ لینے سے انکار کیا تھا وہ پچھتاتے نظر آتے تھے۔ خیر جیسا کہ میں نے بتایا سندس کو بننے سبورنے کا شوق تھا ۔اور ایک عادت یہ بھی تھی کہ شام کو چھت پر چلی جاتی اور واک کرتی گرمیوں آکثر گھروں کی عادت ہوتی ہے۔ مغرب سے کچھ پہلے عصر کے بعد یہ ٹآیم جنوں چڑیلوں کا ہوتا ہے مگر ہم لوگ خیال نہیں کرتے۔


سندس چھت پر تھی ہیڈفون لگا کہ واک کر رہی تھی۔ ایک دم سے چیخنے لگ گئ مجھے بچاو سب بھاگے اسے نیچے لائے شاید بچی ڈر گی۔ شادی میں کچھ ہی دن باقی تھےسندس کے ماموں خود خطیب تھے۔ مسجد کے انہوں نے دم وغیرہ کر دیا اور کہا کہ بچی ڈر گی اپ بس دھیان رکھے۔ کوئی ایک ہفتے کے بعدسندس ایک رات ہڑ بڑآ کر آٹھی اور رونے لگی سب جمع ہوگے۔ کہتی کہ میں مرگی ہوں اور مجھے قبرستان دفنایا جارہا ہے۔ پھر ایک بار حافظ صاحب سے دم کروایا گیااور وہ بالکل ٹھیک ہوگئ۔


سندس کی مہندی کا فنکشن سندس کو پیلا جوڑآ پہنا دیا گیا ۔بھائی بھی ثآقب آگیا آخر لاڈلی بہن کی شادی تھی۔
اور سندس کو اتنا روپ تھا کہ نظر نہ ٹہرتی تھی۔ مہندی کے فنکشن میں ہی نکاح کردیا گیا ۔لڑکا دیکھ کے لوگ حیران رہ گیے اتنا ہینڈسم اور اتنے امیر لوگ ایسے قسمت کھلی بچی کی مگر آگے کیا ہونے والا تھا۔?????



مہندی کا فنکشن اچھے سے ہوگیا مگر ایسا لگنے لگا کہ جیسے سندس تھک گئ ہے۔ اور بہت ویران سی آنکھیں پر کسی نے بھی غور نہیں کیا کہ شاید شادی کے فنکشن سے تھک گئ۔ نہ ہی اس نے بھی کسی کو بتایاخیر شادی والے دن سندس کو بہت روپ آیا دلہن بن کہ خؤب جچ رہی تھی۔ سہیلیاں دولہے کے نام سے چھیڑ رہی تھی۔ سب بہت خؤش تھے سندس رخصت ہو کہ پیا کے گھر چلی گی بھائی سب غمزدہ تھے۔


ایک گھنٹہ ہی گزرا ہوگا بامشکل سندس کے بھائی کو کال آتی ہے۔ کہ آئیں اپنی بہن کو لے جاو ہمارے ساتھ دھوکا ہوا۔
وہ بچارے بھاگے پہنچے آخر ہوا کیا پہلے ہی دن کون سی بات ناگوار گزر گئ ان لوگوں کو۔جب بھائئ ثآقب اور کاشف ان کے گھر پہنچے تو ان کو دلہن کے روم میں لے کہ جایا گیا۔ تو دیکھا کہ سندس کے بال بکھرے ہوئے اور ہاتھ پاؤن بری طرح مڑے ہوئے۔


دولہے بھائی نے کہا کہ آپ نے دھوکا کیا ہم سے اس کو لے جاو ہم اس بیمار کو نہیں رکھ سکتے۔
اسی وقت اس نےطلاق دے دی۔ اور ان کے سامنے ہی دولہے میاں نے مہمانو ں سے کہا کہ صبح میرے ولیمے کی تقریب ہے تو میں نہیں چاہتا کوئی تماشا بنے۔ تو کون ہے جو مجھ سے نکاح کرے گی۔ تو اسی وقت کسی نے اپنی بیٹی کے لیے ہاں بول دی اور نکاح خوان کو بلا لیا گیا۔ اور سندس کے بھائی بھی ادھر موجود رہے ۔لڑکے والوں نے آنے نہیں دیا اور ولیمہ کی تقریب پر بھی دعوت دی۔


اب پھر سندس کو حآفظ صآحب کو دکھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں حآضری نہیں لگا سکتا میں اپنے استاد محترم سے رابطہ کرتا ہوں۔ جو کہ گجرات میں تھے اب آڈریس لے کر سندس کو گجرات لے گئے۔ ان کے استاد نے بتایا کہ بچی پر پورا کنبہ جنات کا قابض ہے۔ ہوا یہ کہ جو نیا مکان انہوں نے لیا وہاں نیم کا درخت تھا اس پر جنات کا کنبہ آباد تھا۔


سندس تیار ہوکے پرفیوم تیز لگا کہ چہل قدمی کر رہی تھی۔
وہ سب کے سب اس کو چمٹ گئے کوئی دو ماہ تک علاج چلتا رہا ۔اس دوران سندس اتنی کمزور سوکھ کہ کانٹآ ہوگی کسی جن کو بال پسند آیے کسی کو صورت کوئی پرفیوم کی خؤشبو سے چمٹ گیا ۔وہ کہتے ایک آتارتے دوسرا چمٹ جاتا اس لیے سندس کو لگاتار دو ماہ ادھر رہنا پڑا۔ بھائی اتنی دیر پاک میں ہی رہا اب سندس بالکل ٹھیک اور صحت مند ہے۔

 

اور پیاری بھی ہوگئ اور حیران کن بات یہ کہ جو گھر انہوں نے چھوڑآ آسی گھر میں جو لوگ آیے ان کے بیٹے کے ساتھ سندس کی شادی ہوئی۔ وہ ایک بار پھر اسی گھر میں آگی جہاں اس کا بچپن تھا اس کا شوہر بہت اچھا ہے۔ ایک بیٹآ بھی ہے اس کا سندس کے میکے والوں نے گھر بیچ دیا ہے ۔کہیں اور شفٹ ہوگے وہ ڈر گیے تھے ۔کسی اور کو مسلہ نہ ہو کیونکہ مولوی صآحب گجرات سے نہیں آسکتے تھے وہ بوڑھے اور کمزور تھے      ۔?????

 

ختم شد

 

Leave a Comment