مشہور صحابہ اکرامؓ کا محتصر تعارف

مشہور صحابہ اکرامؓ کا محتصر تعارف
Written by kahaniinurdu

( 1 ) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ:

نام : عبداللہ

کونیت : ابو بکر

لقب : صدیق و عتیق

ولادت : 50 قبل ھجری

والد : عثمان

والدہ : سلمی

پیشہ : تجارت و سیاست

وفات : سن 13 ھجری

مرویات : 142

نام، نسب، خاندان

انبیاء کرام علیہم السلام  کے بعد انسانوں میںسب سے افضل شخصیت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  ہیں، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اپنا خلیل بنانا چاہتے تھے، جن کو قرآن کریم میں اللہ نے سچائی کی تائید کرنے والا اور حق و سچ کا پیکر و پرتو قرار دیا، جنہوںنے زمانۂ جاہلیت میں بھی شراب و جوا اور ہمہ جہتی منکرات سے اجتناب کیا ، جن کے بارے میں خلیفۂ عادل حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ  نے فرمایا کہ: میں ان کے مقام و مرتبہ تک کبھی نہیں پہنچ سکتا،

وہ جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے مسلمانوں کی امامت تفویض کی، جنہیں جنت کے سبھی دروازے سے داخل ہونے کی دعوت دیںگے، وہ جس نے اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم  پر اس قدر احسان کیے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو ارشاد فرمانا پڑا کہ: ان کے احسانات کا بدلہ خود اللہ تعالیٰ چکائیں گے، وہ جو صرف عشرہ مبشرہ میں ہی شامل نہیں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ: تم میرے حوضِ کوثر پر بھی رفیق ہوگے جیسے سفرِ ہجرت میں میرے ساتھ تھے،

وحی کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی گھبراہٹ کو زائل کرنے کے لیے اُم المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  نے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی صفات بیان کی تھیں کہ: ’’اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی نقصان نہیں پہنچنے دے گا، کیونکہ آپ ناداروں کی مدد کرتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، حق بات پر لوگوں کا ساتھ دیتے ہیں، صلہ رحمی کو اختیار کرتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اُٹھاتے ہیں۔‘‘ بعینہٖ انہی صفات سے ابن دغنہ نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  کو متصف کرکے فرمایا کہ: ’’مکہ والوں کی اذیت سے ہجرت نہ کریں، میں آپ کو امان دیتاہوں۔

( 2 ) حضرت عمر رضی الله عنہ:

نام : عمر

کنیت : ابو عبداللہ

لقب : فاروق

ولادت : 40 قبل ھجری

والد : خطاب بن نفیل

والدہ : ختمہ بنت ہشام

پیشہ : جہاد و سیاست

وفات : 23 ھجری

مرویات : 537

نام، نسب، خاندان

عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزّٰی بن ریاح بن عبد اللہ بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بن لوّیٰ بن فہربن مالک۔ جبکہ والدہ کا نام خنتمہ تھا جو عرب کے مشہور سردار ہشام بن مغیرہ کی بیٹی تھیں آپ کا لقب فاروق، کنیت ابو حفص، لقب و کنیت دونوں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عطا کردہ ہیں۔ آپ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ عمر عدی کی اولاد میں سے ہیں۔ حضرت عمر کاخاندان ایام جاہلیت سے نہایت ممتاز تھا، آپ کے جدا علیٰ عدی عرب کے باہمی منازعات میں ثالث مقرر ہواکرتے تھے اورقریش کو کسی قبیلہ کے ساتھ کوئی ملکی معاملہ پیش آجاتا تو سفیر بن کر جایا کرتے تھے اور یہ دونوں منصب عدی کے خاندان میں نسلا بعد نسل چلے آ رہے تھے،

ددھیال کی طرح عمرننھیال کی طرف سے بھی نہایت معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے، آپ کی والدہ ختمہ، ہاشم بن مغیرہ کی بیٹی تھیں اور مغیرہ اس درجہ کے آدمی تھے کہ جب قریش کسی قبیلہ سے نبرد آزمائی کے لیے جاتے تھے تو فوج کا اہتمام ان ہی کے متعلق ہوتا تھا۔

( 3 ) حضرت عثمان رضی الله عنہ:

نام : عثمان

کنیت : ابو عمرو و ابو عبداللہ

لقب : ذوالنورین

ولادت : 47 قبل ھجری

والد : عفان

والدہ : اروی

پیشہ : تجارت

وفات : 35 ھجری

مرویات : 146

نام، نسب، خاندان

عثمان غنی کا نسب حسب ذیل ہے: «عثمان بن عفان بن ابو العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی بن قصی بن كلاب بن مرہ بن کعب بن كعب بن لوی بن غالب بن فہر بن فہر بن مالک بن مالک بن النضر بن کنانہ (اسی کا لقب قریش تھا) بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن معد بن عدنان»، عثمان غنی کا نسب عبد مناف بن قصی کے بعد محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نسب سے مل جاتا ہے۔

والدہ: «اروی بنت کریز بن ربیعہ بن حبیہب بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی بن كلاب بن مرہ بن کعب بن كعب بن لوی بن غالب بن فہر بن فہر بن مالک بن مالک بن النضر بن کنانہ بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن معد بن عدنان»، ان کی والدہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن تھیں اور ان کی نانی کا نام بیضا بنت عبدالمطلب تھا۔، اسی طرح حضرت عثمان ؓ کا سلسلہ پانچویں پشت میں عبد مناف پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے،

حضرت عثمان ؓ کی نانی بیضا ام الحکیم حضرت عبد اللہ بن عبدالمطلب کی سگی بہن اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں اس لیے وہ ماں کی طرف سے حضرت سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے قریشی رشتہ دار ہیں،  آپ کو ذوالنورین (دونوں نوروں والا) اس لیے کہا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوصاحبزادیاں یکے بعد دیگر ے ان کے نکاح میں آئیں۔ حضرت عثمان ؓ کا خاندان ایام جاہلیت میں غیر معمولی وقعت واقتدار رکھتا تھا،

آپ کے جد اعلیٰ امیہ بن عبدشمس قریش کے رئیسوں میں تھے، خلفائے بنوامیہ اسی امیہ بن عبد شمس کی طرف سے منسوب ہوکر‘‘امویین’’ کے نام سے مشہور ہیں، عقاب یعنی قریش کا قومی علم اسی خاندان کے قبضہ میں تھا، جنگ فجار میں اسی خاندان کا نامور سردار حرب بن امیہ سپہ سالار اعظم کی حیثیت رکھتا تھا، عقبہ بن معیط نے جو اپنے زور اثر اور قوت کے لحاظ سے اسلام کا بہت بڑا دشمن تھااموی تھا، اسی طرح ابوسفیان بن حرب جنھوں نے قبول اسلام سے پہلے غزوہ بدر کے بعد تمام غزوات میں رئیس قریش کی حیثیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ کیا تھا

اسی اموی خاندان کے ایک رکن تھے ؛غرض حضرت عثمان ؓ کا خاندان شرافت، ریاست اورغزوات کے لحاظ سے عرب میں نہایت ممتاز تھا اور بنو ہاشم کے سوا دوسرا خاندان اس کا ہمسرنہ تھا۔ حضرت عثمان ؓ واقعہ فیل کے چھٹے سال یعنی ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے 47 برس قبل پیدا ہوئے، بچپن اورسن رشد کے حالات پردہ خفا میں ہیں ؛لیکن قرآئن سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے عام اہل عرب کے خلاف اسی زمانہ میں لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا، عہد شباب کا آغاز ہواتو تجارتی کاروبار میں مشغول ہوئے اور اپنی صداقت، دیانت اور راست بازی کے باعث غیر معمولی فروغ حاصل کیا۔

( 4) حضرت علی رضی الله عنہ:

نام : علی رضی الله عنہ

کنیت : ابوالحسن و ابواتراب

لقب : اسداللہ و مرتضی

ولادت : 23 قبل نبوت

والد : عمران , یعنی ابو طالب

والدہ : فاطمہ

پیشہ : جہاد

وفات : 40 ھجری

مرویات : 536

نام، نسب، خاندان

علی نام، ابوالحسن اورابوتراب کنیت، حیدر (شیر)لقب، والد کا نام ابوطالب اوروالدہ کا نام فاطمہ تھا، پوراسلسلہ نسب یہ ہے، علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف بن قصی بن کلاب بن مروہ بن کعب بن لوی، چونکہ ابوطالب کی شادی اپنے چچا کی لڑکی سے ہوئی تھی اس لیے حضرت علی ؓ نجیب الطرفین ہاشمی اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چچازاد بھائی تھے۔ خاندانِ ہاشم کو عرب اورقبیلہ قریش میں جو وقعت وعظمت حاصل تھی وہ محتاجِ اظہار نہیں، خانہ کعبہ کی خدمت اوراس کا اہتمام بنوہاشم کا مخصوص طغرائے امتیاز تھا اوراس شرف کے باعث ان کو تمام عرب میں مذہبی سیادت حاصل تھی۔

حضرت علی مرتضی ؓ کے والد ابو طالب مکہ کے ذی اثر بزرگ تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی کی آغوش شفقت میں پرورش پائی تھی اوربعثت کے بعد ان ہی کے زیر حمایت مکہ کے کفرستان میں دعوتِ حق کا اعلان کیا تھا، ابو طالب ہر موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرتے رہے اور سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے پنجہ ظلم ستم سے محفوظ رکھا، مشرکین قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پناہی اورحمایت کے باعث ابوطالب اوران کے خاندان کو طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں، ایک گھاٹی میں ان کو محصور کر دیا۔

کاروبار اورلین دین بند کر دیا، شادی بیاہ کے تعلقات منقطع کرلئے، کھانا پینا تک بند کر دیا، غرض ہر طرح پریشان کیا، مگر اس نیک طینت بزرگ نے آخری لمحہ حیات تک اپنے عزیز بھتیجے کے سر سے دستِ شفقت نہ اُٹھایا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دلی آرزو تھی کہ ابو طالب کا دل نورِ ایمان سے منور ہوجائے اور انہوں نے اپنی ذات سے دنیا میں مہبط وحی(صلی اللہ علیہ وسلم )کی جو خدمت وحمایت کی ہے اس کے معاوضہ میں ان کو نعیم فردوس کی ابدی اورلامتناہی دولت حاصل ہو، اس لیے ابو طالب کی وفات کے وقت نہایت اصرار کے ساتھ کلمہ توحید کی دعوت دی۔

ابوطالب نے کہا عزیز بھتیجے! اگر مجھے قریش کی طعنہ زنی کاخوف نہ ہوتا تو نہایت خوشی سے تمہاری دعوت قبول کرلیتا، سیرت ابن ہشام میں حضرت عباس ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ نزع کی حالت میں کلمۂ توحید ان کی زبان پر تھا، مگر یہ روایت کمزور ہے، بہر حال ابو طالب نے گو علانیہ اسلام قبول نہیں کیا، تاہم انہوں نے حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی جس طرح پرورش وپرداخت کی اورکفار کے مقابلہ میں جس ثبات اور استقلال کے ساتھ آپ کی نصرت وحمایت کا فرض انجام دیا، اس کے لحاظ سے اسلام کی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ شکر گزاری اوراحسان مندی کے ساتھ لیا جائے گا۔

حضرت علی ؓ کی والدہ حضرت فاطمہ ؓ بنت اسد نے بھی حضرت آمنہ ؓ کے اس یتیم معصوم کی ماں کی طرح شفقت ومحبت سے پرورش کی، مستند روایات کے مطابق وہ مسلمان ہوئیں اورہجرت کرکے مدینہ گئیں، ان کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفن میں اپنی قمیص مبارک پہنائی اور قبر میں لیٹ کر اس کو متبرک کیا، لوگوں نے اس عنایت کی وجہ دریافت کی تو فرمایا کہ ابو طالب کے بعد سب سے زیادہ اسی نیک سیرت خاتون کاممنونِ احسان ہوں۔ حضرت علی ؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے دس برس پہلے پیدا ہوئے تھے۔

ابو طالب نہایت کثر العیال اورمعاش کی تنگی سے نہایت پریشان تھے، قحط وخشک سالی نے اس مصیبت میں اور بھی اضافہ کر دیا، اس لیے رحمۃاللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے محبوب چچا کی عسرت سے متاثر ہوکر حضرت عباس ؓ سے فرمایا کہ ہم کو اس مصیبت وپریشان حالی میں چچا کا ہاتھ بٹانا چاہیے؛چنانچہ حضرت عباس ؓ نے حسب ارشاد جعفر کی کفالت اپنے ذمہ لی اور سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہِ انتخاب نے علی ؓ کو پسند کیا؛چنانچہ وہ اس وقت سے برابر حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔

( 5 ) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ:

نام : عبداللہ

کنیت : ابو عبدالرحمان

لقب : خادم رسول

ولادت : 31 قبل ھجری

والد : مسعود

والدہ : ام عبد

پیشہ : درس تدریس

وفات : 32 ھجری

مرویات : 848

نام، نسب، خاندان

عبد اللہ نام،ابوعبدالرحمن کنیت،والد کا نام مسعود اوروالدہ کانام ام عبد تھا،شجرہ ٔنسب یہ ہے،عبد اللہ بن مسعود بن غافل بن حبیب بن شمخ بن فار بن مخزوم بن صاہلہ بن کاہل بن الحارث بن تمیم بن سعد بن ہذیل بن مدرکہ بن الیاس بن مضر حضرت عبد اللہ ؓ کے والد مسعود ایام جاہلیت میں عبدبن حارث کے حلیف تھے۔

( 6 )حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ:

نام : عبداللہ

کنیت : ابوالعباس

لقب : حبرالامہ و ترجمان القرآن

ولادت : 3 قبل ھجری

والد : عباس

والدہ : ام الفضل

پیشہ : درس و تدریس

وفات : 67 یا 68 ھجری

مرویات : 1660

نام، نسب، خاندان

آپ کا نام عبد اللہ، ابوالعباس کنیت تھی۔ آپ کے والد کا نام عباس بن عبدالمطلب اور والدہ کا نام ام الفضل لبابہ تھا۔

عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف۔

آپ کے والد عباس نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سگے چچا تھے۔ اس طرح آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ابنِ عم تھے۔ آپ اُم المومنین میمونہ بنت حارث کے خواہرزادہ تھے کیونکہ آپ کی والدہ اُم الفضل اور میمونہ بنت حارث حقیقی بہنیں تھیں۔

( 7 ) حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ:

نام : عبداللہ

کنیت : ابو عبدالرحمن

لقب : فقیہ امت

ولادت : 11 قبل ھجری

والد : عمر فاروق

والدہ : زینب بنت مظعون

پیشہ : تدریس و خطابت

وفات : 73 یا 74 ھجری

مرویات : 2630

نام، نسب، خاندان

عبداللہ نام ، ابوعبدالرحمن کنیت، آبائی سلسلہ نسب یہ ہے، عبداللہ بن عمر بن خطاب ابن نفیل بن عبدالعزی بن رباح بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر، ماں کا نام زینب تھا، نانہالی نسب نامہ یہ ہے، زینب بنت مظعون بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن حمح بن عمرو بن حصین۔

( 8 ) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ:

نام : عبداللہ

کنیت : ابو محمد و ابو عبدالرحمان

لقب : کاتب حدیث و فاضل حدیث

ولادت : 7 قبل ھجری

والد : عمرو بن عاص

والدہ : ریطہ بنت منبہ

پیشہ : دعوت و تبلیغ

وفات : 63 یا 65 ھجری

مرویات : 760

نام، نسب، خاندان

عبد اللہ بن عمرو بن العاص (وفات 63ھ) صحابی اور راوی حدیث تھے۔ صحابی عبد اللہ بن عمرو بن العاص بن وائل سہمی قرشی نے سنہ 7ھ کے بعد اسلام قبول کیا اور مدینہ ہجرت کی۔ انہوں نے والد صحابی عمرو بن العاص سے پہلے اسلام قبول کیا، جو قریش کے سرداروں میں سے ایک تھے۔ ان کی والدہ ریطہ بنت منبہ بن حجاج سہمیہ قرشیہ تھیں۔ عبد اللہ اپنے والد عَمروْ سے فقط 12 سال چھوٹے تھے۔قبول اسلام کے بعد عبد اللہ کچھ غزوات میں شریک ہوئے۔مؤرخین نے ان کی مختلف کنتیں لکھی ہیں، ابو محمد، ابو عبد الرحمن اور ابو نصیر۔ کہا جاتا ہے کہ جب پیدا ہوئے تو ان کا نام العاص رکھا گیا اور رسول اللہ Mohamed peace be upon him.svg نے تبدیل کر کے عبد اللہ رکھا۔

( 9 ) حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ:

نام : جابر

کنیت : ابو عبداللہ

لقب : صاحب الشجرہ

ولادت : 19 یا 20 قبل ھجری

والد : عبداللہ بن عمرو

پیشہ : درس و تدریس

وفات : 74 ھجری

مرویات : 1540

نام، نسب، خاندان

جابر نام،ابو عبداللہ کنیت ،قبیلہ خزرج سے ہیں، نسب نامہ یہ ہے،جابر بن عبداللہ بن عمرو بن حرام بن کعب بن غنم بن سلمہ، والدہ کا نام نسیبہ تھا، جن کا سلسلۂ نسب حضرت جابرؓ کے آبائی سلسلہ میں زید بن حرام سے مل جاتا ہے۔ سلمہ کی اولاد اگرچہ حرہ اور مسجد قبلتین تک پھیلی ہوئی ہے، لیکن خاص بنو حرام قبرستان اورایک چھوٹی مسجد کے درمیان آباد تھے۔ حضرت جابرؓ کے دادا (عمرو) اپنے خاندان کے رئیس تھے، عین الارزق (ایک چشمہ ہے) جس کو مروان بن حکم نے اموی امیر معاویہؓ کے عہد میں درست کرایا تھا۔

انہی کی ملکیت تھا، بنو سلمہ کے بعض حصے، قلعے اور جابر بن عتیک کے قریب کے قلعے ان کے تحت و تصرف میں تھے۔ عمرو کے بعد یہ چیزیں عبداللہ کے قبضہ میں آئیں، حضرت جابرؓ انہی عبداللہ کے فرزند ہیں جو تقریبا 611ء (مطابق 34 عام الفیل) میں ہجرت سے 20 سال قبل تولد ہوئے تھے۔

جابر کے والد ہجرت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پہلے مسلمان ہوئے اور دوسری بیعت عقبہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ عہد کیا اور ان بارہ نقیبوں میں سے ایک تھے جنہيں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے قبیلوں کے نمائندوں کے طور پر متھا۔ وہ غزوہ بدر میں شریک تھے اور غزوہ احد میں شہید ہوئے۔

( 10 ) حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ:

 

نام : انس

کنیت : ابو حمزہ و ابو ثمامہ

لقب : خادم رسول

والد : عاءل بن نضر

والدہ : ام سلیم

پیشہ : فتوی نویسی

وفات : 93 ھجری

مرویات : 2286

نام، نسب، خاندان

انس نام، ابوحمزہ کنیت، خادم رسول اللہ لقب، قبیلہ نجار سے ہیں، جو انصار مدینہ کا معزز ترین خاندان تھا، نسب نامہ یہ ہے، انس بن مالک بن نضر بن ضمضم بن زید بن حرام بن جنب بن عامر بن غنم بن عدی بن نجار، والدہ ماجدہ کا نام ام سلیم سہلہ بنت لمحان انصاریہ ہے جن کا سلسلۂ نسب تین واسطوں سے انس بن مالک کے آبائی سلسلہ میں مل جاتا ہے اور رشتہ میں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خالہ ہوتی تھیں۔

حضرت انسؓ ہجرت نبویﷺ سے دس سال پیشتر شہر یثرب میں پیدا ہوئے 8،9 سال کا سن تھا کہ ان کی ماں نے اسلام قبول کرلیا، ان کے والد بیوی سے ناراض ہوکر شام چلے گئے اور وہیں انتقال کیا،ماں نے دوسرا نکاح ابو طلحہ سے کرلیا جن کا شمار قبیلۂ خزرج کے متمول اشخاص میں تھا اوراپنے ساتھ حضرت انسؓ کو ابو طلحہ کے گھر لے گئیں،حضرت انسؓ نے انہی کے گھر میں پرورش پائی۔

قبل اسلام عربوں کی جہالت کا یہ نقشہ تھا کہ باپ (ابوطلحہ) کی صحبت میں جب بادہ وجام کا دور چلتا تو بیٹا(انسؓ) ساقی گری کرتا، وہ پہلے دوسروں کو پلاتے اوربعد میں خود پیتے تھے اوراس دس سالہ بچے کو روکنے والا کوئی نہ تھا۔حضرت انسؓ کا نام ان کے چچا انسؓ بن نضر کے نام پر رکھا گیا تھا؛لیکن کنیت نہ تھی وہ آنحضرتﷺ نے تجویز فرمائی،انسؓ ایک خاص قسم کی سبزی جس کا نام حمزہ تھا چنا کرتے تھے،ا ٓنحضرتﷺ نے اسی مناسبت سے ان کی کنیت ابو حمزہ پسند فرمائی۔

( 11 ) حضرت ابو ھریرہ رضی الله عنہ:

نام : عبدالرحمان

کنیت : ابو ھریرہ

لقب : فقیہ امت و حافظ حدیث

ولادت : 19 قبل ھجری

وفات : 59 ھجری

والد : عامر بن عبدوی

پیشہ : اشاعت حدیث

مرویات : 5374

نام، نسب، خاندان

عبدالرحمن بن صخر نام،ابوہریرہ کنیت، سلسلہ نسب یہ ہے،عمیر بن عامربن عبدذی الشریٰ بن طریف بن غیاث بن لہنیہ بن سعد بن ثعلبہ بن سلیم بن فہم بن غنم بن دوس،اصل خاندانی نام عبدشمس تھا،اسلام کے بعد آنحضرت ﷺ نے عمیر رکھا،کنیت کی وجہ خود بیان کرتے ہیں کہ میں ایک “ہرہ” بلی پالا تھا، شب میں اس کو ایک درخت میں رکھتا تھا اور صبح کو جب بکریاں چرانے جاتا تو ساتھ لے لیتا اوراس کے ساتھ کھیلتا،لوگوں نے یہ غیر معمولی دلچسپی دیکھ کر مجھ کو ابوہریرہ کہنا شروع کیا، دوس کا قبیلہ یمن میں آباد تھا۔

( 12 ) ابو سعید خدری رضی الله عنہ:

نام : سعد

کنیت : ابو سعید خدری

لقب : صاحب الشجرہ

ولادت : 12 قبل ھجری

والد : مالک بن سنان

والدہ : انیسہ بنت ابو حارثہ

پیشہ : درس و تدریس

وفات : 74 ھجری

مرویات : 1170

نام، نسب، خاندان

سعد نام، ابوسعید کنیت خاندان خدرہ سے ہیں، سلسلۂ نسب یہ ہے سعد بن مالک بن سنان بن عبید بن ثعلبہ بن الجبر(خدرہ) ابن عوف بن حارث بن خزرج والدہ کا نام انیسہ بنت ابی حارثہ تھا، وہ قبیلہ عدی بن نجار سے تھیں۔ دادا (سنان) شہید کے لقب سے مشہور اوررئیس محلہ تھے چاہ بصہ کے قریب اجرد نام قلعہ ان کی ملکیت تھا، اسلام سے پیشترقضا کی۔ باپ نے ہجرت سے چند سال قبل عدی بن نجار میں ایک بیوہ سے نکاح کیا تھا جو پہلے عمان اوہی کی زوجیت میں تھیں، ابو سعیدانہی کے بطن سے تولد ہوئے یہ ہجرت سے ایک برس پیشتر کا واقعہ ہے۔

( 13 ) حضرت عائشہ رضی الله عنہا:

نام : عائشہ

کنیت : ام عبداللہ

لقب : صدیقہ

ولادت : 9 قبل ھجری

والد : ابو بکر صديق

والدہ : ام رومان بنت عامر

پیشہ : دعوت و تبلیغ

وفات : 58 ھجری

مرویات : 2210

نام، نسب، خاندان

آپ کا نام عائشہ ہے۔ خطاب اُم المومنین ہے۔ القاب صدیقہ، حبیبۃ الرسول، المُبرۃ، المُوَفقہ، طیبہ، حبیبۃ المصطفٰی اور حمیراء ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنت الصدیق سے بھی آپ کو خطاب فرمایا ہے۔[7][8] علاوہ ازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یَا عَائشُۃ کے نام سے بھی خطاب فرمایا ہے۔[9]

کنیت[ترمیم]

آپ کی کنیت اُمِ عبد اللہ ہے۔ عرب میں کنیت اشراف کی شرافت کا نشان تھا اور چونکہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی کوئی اولاد نہ تھی، اِس لیے کنیت بھی نہ تھی۔ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ازراہِ حسرت عرض کرنے لگیں کہ اور خواتین نے تو اپنی سابقہ اولادوں کے نام پر اپنی اپنی کنیت رکھ لی، میں اپنی کنیت کس کے نام پر رکھوں؟۔ فرمایا: اپنے بھانجے عبد اللہ کے نام پر [10][11] جو آپ کی بہن اسماء بنت ابی بکر اور زبیر ابن عوام کے بیٹے تھے۔

نسب[ترمیم]

آپ والد کی طرف سے قریشیہ تیمیہ ہیں اور والدہ کی طرف سے کنانیہ ہیں۔ والد کی طرف سے قبیلہ قریش کی شاخ بنو تمیم سے تعلق ہے اور والدہ کی طرف سے قبیلہ قریش کی شاخ کنانہ سے تعلق ہے۔

  • والد کی طرف سے نسب یوں ہے:

عائشہ بنت ابی بکر الصدیق بن ابی قحافہ عثمان بن عامر بن عمر بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک۔[11]

  • والدہ کی طرف سے نسب یوں ہے:

عائشہ بنت اُمِ رومان زینب بنت عامر بن عویمر بن عبد شمس بن عتاب بن اذینہ بن سبیع بن وہمان بن حارث بن غنم بن مالک بن کنانہ۔[11]

والد کی طرف سے عائشہ رضی اللہ عنہا کا نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب سے مرہ بن کعب پر آٹھویں پشت پر ملتا ہے اور والدہ کی طرف سے عائشہ رضی اللہ عنہا کا نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب سے مالک بن کنانہ پر گیارہویں پشت پر ملتا ہے [12]۔

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب یوں ہے :

محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن کنانہ۔

( 14 ) حضرت ابو امامہ باھلی رضی الله عنہ:

نام : صدی

کنیت : ابو امامہ

لقب : صاحب الشجرہ

ولادت : 21 قبل ھجری

والد : عجلان بن وھب

پیشہ : جہاد

وفات : 86 ھجری

مرویات : 250

نام، نسب، خاندان

صدی نام، ابو امامہ کنیت، نسب نامہ یہ ہے،ابو امامہ بن عجلان بن وہب بن عریب بن وہب بن رباح بن حارث بن وہب بن معن بن مالک بن اعصر بن سعد بن قیس بن عیلان بن مضر، باہلہ معن بن مالک کی بیوی تھیں،معن کی اولاد اپنی ماں کی نسبت سے باہلی مشہور ہوئی۔

( 15 ) حضرت ابو موسی اشعری رضی الله عنہ:

نام : عبداللہ

کنیت : ابو موسی

لقب : حافظ حدیث

والد : قیس بن مسلیم

والدہ : ظبیہ بنت وھب

پیشہ : تجارت و جہاد

وفات : 44 ھجری

مرویات : 360

نام، نسب، خاندان

عبد اللہ نام،ابوموسیٰ کنیت ،والد کانام قیس اوروالدہ کانام طیبہ تھا،سلسلہ نسب یہ ہے: عبد اللہ بن قیس بن سلیم بن حضار بن حرب بن عامر بن عنزبن بکربن عامر بن عذربن وائل بن ناجیہ بن الجماہر بن لاشعر بن اددبن زید بن یشجب۔ حضرت ابوموسیٰ ؓ یمن کے رہنے والے تھے، ان کاخاندان قبیلہ اشعر سے تعلق رکھتا تھا،اسی کے انتساب سے وہ اشعری مشہور ہوئے اور ان کی والدہ طیبہ بنت وہب قبیلہ عک سے تعلق رکھتی تھیں، وہ اپنے صاحبزادہ کی ہدایت سے ایمان لائیں اورمدینہ پہنچ کر وفات پائی۔ [3]

( 16 ) حضرت سعد بن ابو وقاص رضی الله عنہ:

نام : سعد

کنیت : ابو اسحاق

لقب : فاتح عراق

ولادت : 25 قبل ھجری

والد : ابو وقاص

والدہ : حمنہ بنت سفیان

پیشہ: جہاد

وفات : 55 ھجری

مرویات : 271

نام، نسب، خاندان

سعدنام ،ابواسحق کنیت،والد کا نام مالک اورابووقاص کنیت والدہ کا نام حمنہ تھا، سلسلۂ نسب یہ ہے،سعد بن مالک بن وہیب بن عبدمناف بن زہرہ بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن نضر بن کنانہ القرشی الزہری،چونکہ آنحضرت ﷺ کی نانہال زہری خاندان میں تھی، اس لیے حضرت سعد وقاص ؓ رشتہ میں آپ کے ماموں تھے،سرورِ کائنات ﷺ نے خود بھی بارہا اس رشتہ کا اقرار فرمایا تھا۔ [2]

( 17 ) حضرت عقبہ بن عامر رضی الله عنہ:

نام : عقبہ

کنیت : ابو حماد

لقب : شاعر اسلام

والد : عامر جھنی

پیشہ : خطابت و شاعری

وفات : 58 ھجری

مرویات : 55

نام، نسب، خاندان

عقبہ نام،ابوعمروکنیت، سلسلۂ نسب یہ ہے، عقبہ بن عامر بن عبس بن عمروبن عدی بن عمروبن رفاعہ بن مودوعہ بن عدی بن غنم بن ربیعہ بن رشدان بن قیس بن جہینہ جہنی۔[1] عقبہ آنحضرتﷺ کے مدینہ تشریف لانے کے بعد مشرف باسلام ہوئے،اسلام کا واقعہ یہ ہے کہ جب حضرت محمد مدینہ آئے تو عقبہ بکریاں چرا رہے تھے آپ کی تشریف آوری کی خبر سن کر بکریاں چھوڑ کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اورعرض کیا کہ مجھ سے بیعت لیجئے،آنحضرﷺ نے پوچھابیعت عربیہ کرنا چاہتے ہو یا بیعت ہجرت کہا بیعت ہجرت؛چنانچہ بیعت کرکے مدینہ میں مقیم ہو گئے۔

( 18 ) حضرت میمونہ بنت حارث رضی الله عنہ:

نام : میمونہ

کنیت : ام عبداللہ

لقب : ام المومنین

ولادت : 23 یا 29 قبل ھجری

والد : حارث بن حزن

والدہ : ھندہ بنت حزف

پیشہ : دعوت و تبلیغ

وفات : 51 ھجری

مرویات : 10

نام، نسب، خاندان

آپ کا نام بَرَّہ تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبدیل کرکے میمونہ رکھ دیا۔[2] قبیلہ قریش سے تعلق تھا۔

نسب

آپ کا والد کی طرف سے نسب یوں ہے:

  • میمونہ (رضی اللہ عنہا) بنت حارث بن حزن ابن بحیر بن ہزم بن رویبہ بن عبد اللہ بن ہلال بن عامر بن صعصہ بن معاویہ بن بکر بن ہوازن بن منصور بن عکرمہ بن خصفہ بن قیس بن عیلان بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان۔

آپ کی والدہ ہند بنت عوف کا تعلق یمن کے قبیلہ حمیر سے تھا۔ والدہ کی طرف سے سلسلۂ نسب یوں ہے:

  • میمونہ (رضی اللہ عنہا) بنت ہند بنت عوف بن زُہَیر بن حارث بن حماطہ بن جرش۔

( 19 ) حضرت ابو قتادہ انصاری رضی الله عنہ:

نام : حارث

کنیت : ابو قتادہ

لقب : فارس رسول الله

ولادت : 16 قبل ھجری

والد : ربعی بن سلامہ

والدہ : کبشہ بنت مظہر

پیشہ : جہاد

وفات : 54 ھجری

مرویات : 170

نام، نسب، خاندان

حارث نام، ابوقتادہ کنیت ،فارس رسول اللہ لقب،قبیلہ خزرج کے خاندان سلمہ سے ہیں، نسب نامہ یہ ہے، حارث بن ربعی بن بلدمہ بن خناس ابن سنان بن عبید بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ بن زید بن جشم بن خزرج ،ابو قتادة الانصاري الخزرجی، ثم من بنی سلمہ، ہے۔ والدہ کا نام کبشہ بنت مظہر بن حرام تھا اوربنو سلمہ میں سواد بن غنم کے خاندان سے تھیں۔[1]

( 20 ) حضرت حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ:

نام : حذیفہ

کنیت : ابو عبداللہ

لقب : صاحب سر رسول الله

والد : حسیل یعنی یمان

والدہ : رباب بنت کعب

پیشہ : درس و تدریس

وفات : 36 ھجری

مرویات : 223

نام، نسب، خاندان

حذیفہ نام، ابو عبداللہ کنیت، صاحب السر لقب، قبیلۂ عطفان کے خاندان عبس سے ہیں، نسب نامہ یہ ہے، حذیفہ بن حسیل بن جابر بن عمرو بن ربیعہ بن فرودہ بن حارث بن مازن بن قطیعہ بن عبس بن بغبیض بن ریث بن غطفان العبسی، والدہ کا نام رباب بنت کعب بن عدی بن عبدالاشہل تھا۔ حضرت حذیفہؓ کے والد اپنی قوم کے کسی شخص کو قتل کرکے مدینہ گئے تھے اور یہیں سکونت اختیار کرلی تھی، عبد الاشہل کے خاندان سے حلف کا تعلق ہوا، پھر بعد میں باہم قرابت بھی کرلی، کہتے ہیں کہ اوس وخزرج کا تعلق چونکہ یمن سے تھا اس لئے ان کی قوم نے ان کا نام یمان رکھ دیا [3]عبدالاشہل میں جو نکاح کیا تھا، اس سے حسب ذیل اولاد پیدا ہوئی، حذیفہ، سعد، صفوان، مدیح دلیلےٰ [4] یہ لوگ اولاد یمان کے نام سے مشہور ہوئی۔

( 21 ) حضرت سہل بن سعد رضی الله عنہ:

نام : سہل

کنیت : ابو عباس

لقب : ساعدی

ولادت : 6 قبل ھجری تقریبا

والد : سعد بن مالک

پیشہ : درس و تدریس

وفات : 100 ھجری

مرویات : 10 تقریبا

نام، نسب، خاندان

سہل نام، ابو العباس، ابو مالک، ابو یحییٰ کنیت، سلسلہ نسب یہ ہے، سہل بن سعد بن مالک بن خالد بن ثعلبہ بن حارثہ بن عمرو بن خزرج بن ساعدہ بن کعب بن خزرج اکبر۔ ہجرت نبوی سے 5 سال قبل پیدا ہوئے، باپ نے حزن نام رکھا ؛لیکن آنحضرت ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو بدل کر سہل کر دیا۔

( 22 ) حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنہ:

نام : عبادہ

کنیت : ابوالولید

لقب : قاری القرآن

ولادت : 39 قبل ھجری

والد : صامت انصاری

والدہ : قرةالعین بنت عبادہ

پیشہ : دعوت و کتابت

وفات : 34 ھجری

مرویات : 181

نام، نسب، خاندان

عبادہ نام، ابو الولید کنیت، قبیلۂ خزرج کے خاندان سالم سے ہیں نسب نامہ یہ ہے ،عبادہ بن صامت بن قیس بن اصرم بن فہر بن قیس بن ثعلبہ بن غنم (قوقل) بن سالم بن عوف بن عمرو بن عوف بن خزرج ،والدہ کا نام قرۃ العین تھا، جو عبادہ بن نضلہ بن مالک بن عجلان کی بیٹی تھیں، قرۃ العین کے جگر گوشہ کا نام اپنے نانا کے نام پر رکھا گیا۔ بنو سالم کے مکانات مدینہ کے غربی سنگستان کے کنارہ قبأ سے متصل واقع تھے یہاں ان کے کئی قلعے بھی تھے، جو اطم قوافل کے نام سے مشہور ہیں،اس بنا پر عبادہ کا مکان مدینہ سے باہر تھا۔

( 23 ) حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ:

کنیت : ابو سلیمان

لقب : بصری

ولادت : 8 قبل ھجری

والد : جندب بن ھلال

پیشہ : جہاد

وفات : 54 یا 58 ھجری

مرویات : 130

نام، نسب، خاندان

سَمُرَہ نام، ابو عبد الرحمان کنیت، سلسلۂ نسب یہ ہے سمرہ بن جندب بن ہلال بن حریج بن مراہ بن حزن بن عمرو بن جابر بن ذوالریاستین خشین بن لای بن عاصم (عصیم) ابن شمخ بن فزارہ بن ذبیان بن بغیض بن ریث بن غطفان

( 24 ) حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ:

نام : عباس

کنیت : ابو الفضل

لقب : ساقی حرمین

ولادت : 56 قبل ھجری

والد : عبدالمطلب

والدہ : نتیلہ بنت جناب

پیشہ : دعوت و تبلیغ

وفات : 32 ھجری

مرویات : 35

نام، نسب، خاندان

عباس نام ،ابوالفضل کنیت، والد کا نام عبدالمطلب اوروالدہ کا نام نتیلہ تھا،شجرہ نسب یہ ہے۔ عباس بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدالمناف الہاشمی القرشی آنحضرت ﷺ کے چچا تھے،لیکن عمر میں کچھ زیادہ فرق نہ تھا،غالباً حضرت عباس ؓ دویا تین برس آپ سے پہلے پیدا ہوئے تھے۔ [

( 25 ) حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ:

نام : زید

کنیت : ابو خارجہ

لقب : مفتی مدینہ

ولادت : 12 قبل ھجری

والد : ثابت بن ضحاک

والدہ : نوار بنت مالک

پیشہ : قضاء و فیصلہ

وفات : 45 ھجری

مرویات : 92

نام، نسب، خاندان

زید نام،ابو سعید، ابوخارجہ،ابو عبد الرحمن کنیت، مقری، کاتب خلفاء، جرالامت القاب،قبیلہ خزرج کے خاندان نجار سے ہیں، نسب نامہ یہ ہے زید بن ثابت بن ضحاک بن زید بن لوذان بن عمرو بن عبد بن عوف بن غنم بن مالک بن نجار، والدہ کا نام نوار بنت مالک بن معاویہ بن عدی تھا، جوانس بن مالک کے خاندان سے تھیں۔ انصار میں اسلام سے پہلے جو لڑائیاں ہوئی تھیں ان میں یوم بعاث سب سے زیادہ مشہور ہے،زید کے والد اسی لڑائی میں قتل ہوئے،یہ واقعہ ہجرت سے 5 سال قبل کا ہے اس وقت ان کی عمر کل6 برس کی تھی۔حضرت زید ؓ والدہ کے ظل عاطفت میں پرورش پاتے رہے ۱۱ برس کے ہوئے تو اسلام کی آواز کان میں پڑی۔

( 26 ) حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ:

نام : معاذ

کنیت : ابو عبدالرحمان

لقب : امام الفقہاء

ولادت : 18 قبل ھجری

والد : جبل بن عمرو

والدہ : ھندہ بنت سہل

پیشہ : سیاست و یدرس و تدریس

وفات : 17 یا 18 ھجری

مرویات : 157

نام، نسب، خاندان

معاذ نام، ابو عبدالرحمن کنیت،امام الفقہا ءکنز العلماء اور عالم ربانی القاب، قبیلہ خزرج کے خاندان ادی بن سعد سے تھے، نسب نامہ یہ ہے:معاذ بن جبل بن عمروبن اوس بن عائذ بن عدی بن کعب بن عمرو بن ادی بن سعد بن علی بن اسد بن ساردۃ بن یزید بن جشم بن خزرج اکبر۔ سعد بن علی کے دو بیٹے تھے سلمہ اور ادی، سلمہ کی نسل سے بنو سلمہ ہیں، جن میں حضرت ابو قتادہؓ،جابر بن عبداللہؓ ،کعب بن مالکؓ، عبداللہ ؓ بن عمرو بن حرام مشہور صحابہؓ گذرے ہیں ان لوگوں کے ما سوا اور بھی بہت سے بزرگوں کو اس خاندان سے انتساب تھا،لیکن سلمہ کے دوسرے بھائی ادی کے گھر میں رسول اللہ ﷺ کی ہجرت کے وقت صرف ایک فرزند تھا جس کی وفات پر خاندان ادی کا چراغ ہمیشہ کے لئے گل ہوگیا۔ امام سمعانی نے کتاب الانساب میں حسین بن محمد بن [6] طاہر کو اسی ادی کی طرف منسوب کیا ہے؛ لیکن یہ صحیح نہیں ،تمام موثق روایتوں سے ثابت ہے کہ اسلام کے زمانہ میں اس خاندان میں صرف دو شخص باقی تھے، ایک حضرت معاذؓ اور دوسرے ان کے صاحبزادے عبدالرحمن۔بنوادی کے مکانات ان کے بنو اعمام (بنو سلمہ) کے پڑوس میں واقع تھے،مسجد قبلتین جہاں تحویل قبلہ ہوا تھا، یہیں واقع تھی حضرت معاذؓ کا گھر بھی یہیں تھا۔

Leave a Comment