بدکار ساس کا انجام – Buri saas ka bura anjaam ik sachi urdu kahani

buri-saas-ka-anjam
Written by kahaniinurdu

بدکار ساس کا انجام میرا نام زینت ہے۔ میری ماں نے غربت کی وجہ سے میری شادی کم عمری میں ہی کر دی تھی۔ کیوں کہ میرا باپ بہت سال پہلے دنیا سے چلا گیا تھا ۔اور ماں نے بہت مشکل سے مجھے پالا تھا ۔اس لیے پہلے ہی رشتے پر مجھے گھر سے چلتا کر دیا شادی کے بعد مجھے پتا چلا کہ میرا شوہر میری ساس کا سگا بیٹا نہیں ہے۔ میری ساس نے اس کو اپنی بہن سے لے کر پالا تھا ۔پھر میری ساس کا بھی ایک بیٹا پیدا ہوا اور میرے سسر کی وفات ہو گئی ۔تو بچپن ہی سے گھر کا سارا خرچ میرا شوہر چلا رہا تھا۔

میرے شہر کی آمدن اگرچہ زیادہ نہیں تھی۔

لیکن پھر بھی وہ میرا بہت خیال رکھتا تھا ۔جب کہ میرا دیور انتہا درجے کا آوارہ اور لوفر لڑکا تھا۔ لیکن پھر بھی اپنی ماں کی آنکھ کا تارا تھا ۔کیونکہ اس کا اپنا خون جو تھا۔جب کہ میرا شوہر میری ساس کی نظر میں بس کمانے والی مشین تھا ۔پھر ایک دن میرا شوہر گھر سے کمانے گیا اور شام کو اس کی لاش گھر آئی۔ سڑک سے گزرتے ہوئے کسی گاڑی سے ٹکرا گیا تھا۔

میری دنیا ہی اجڑ گئی تھی ۔کچھ دنوں بعد جب دماغ کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہوا تو میری ساس نے اپنے کمرے میں بلایا اور کہا ۔کہ تمہارا شوہر تو چلا گیا ہے تمہارا کیا ارادہ ہے۔ میں نے کہا کہ کیا مطلب امی جی۔ کہنے لگی کہ پہلے تمہارا خرچ تمہارا شوہر اٹھاتا تھا ۔اب تم خود کماؤ گی اور مجھے بھی کھلاؤ گی ۔میں نے حیرانی سے پوچھا کہ میں کیسے کماؤں تو میری ساس نے جواب دیا کہ تمہارے کام کا بندوبست میں کر دوں گی بس گھر میں بیٹھ کر ہی کمانا ہے۔

میں نے سوچا کہ اب کوئی ٹھکانہ بھی نہیں ہے۔

جہاں پناہ ملے تو بہتر ہے کچھ نہ کچھ کام دھندا کر لوں میں نے کہا ٹھیک ہے۔ میری ساس میری سعادتمندی سے بہت خوش ہوئی ۔اگلے دن شام کے وقت میں نہا کر باتھ روم سے نکلی تو گھر کے صحن میں دو مرد بیٹھے تھے۔ شکل سے جرائم پیشہ اور کپڑوں سے کھاتے پیتے گھر کے لگتے تھے۔ میری ساس ان کی خدمت کاری میں مصروف تھیں۔ پھلوں اور جوس سے ان کی تواضع ہو رہی تھی میں سوچ میں پڑ گئی کہ یہ کون اتنے اہم لوگ ہیں ۔

میری ساس تو کسی کو مفت میں مری ہوئی مکھی نہ دے۔ لیکن یہ حیرانگی جلد ہی ختم ہو گئی۔ میری ساس میرے کمرے میں آئی اور کہنے لگی۔ کہ جلدی سے تیار ہو جاؤ آج تمہارے کام کا پہلا دن ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیسا کام مجھے تو کچھ پتہ نہیں تھا ۔میری ساس مسکرا کر کہنے لگی کہ بہو تم بہت بھولی ہو ۔یہ جو مرد باہر بیٹھے ہیں تم ان کے ساتھ جاؤ گی دیکھو صرف ایک رات کے 10 ہزار وصول کیے ہیں۔

میں نے ان سے میری ساس نے مٹھی میں بند نیلے نیلے نوٹ ۔

میری آنکھوں کے سامنے لہرائے تو مجھے اس وقت سمجھ آئی کہ میری ساس نے اس کام دھندے کا ذکر کیا تھا۔ وہ کچھ اور نہیں بلکہ جسم فروشی تھا۔ مجھے چکر سے آنے لگے میں نے نفرت سے کہا کہ مجھے نہیں کرنا یہ گندا کام۔ میں بھوکی رہ لونگی لیکن اپنا جسم فروخت نہیں کروں گی۔ میری ساس ایک دم طیش میں آگئی اور مجھے بالوں سے پکڑ کر کہنے لگی۔کہ دیکھو لڑکی یہاں رہنا ہے تو میری بات ماننی ہی پڑے گی۔ ورنہ گھر سے نکال دوں گی اور باہر بھی سب لوگ تمہارا جسم ہی نوچیں گے۔

میں نے بہت احتجاج کیا لیکن میری ساس نے دونوں مردوں کی مدد سے مجھے کھینچ کر گھر سے نکالا اور کار میں ڈال دیا ۔ایک آدمی نے ڈرائیور سیٹ سنبھالی اور دوسرا مجھے بازو سے پکڑ کر پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا کار منزل کی طرف چل پڑی۔ میں مسلسل اپنی قسمت پر رورہی تھی ۔مجھے اپنا شوہر یاد آ رہا تھا اس نے غریب ہونے کے باوجود مجھے عزت اور زندگی کی چھوٹی چھوٹی سہولتیں دیں۔ کار ایک رہائشی علاقے میں ایک بڑے بنگلے کے گیٹ پر رکی اور گیٹ کھلنے پر اندر داخل ہوگئے تھے۔

وہ مجھے کار سے اتار کر دوسری منزل پر ایک کمرے میں لے گئے ۔

اور کہا کہ رات تک یہاں آرام کروفریج میں پانی اور کھانے پینے کی چیزیں موجود ہیں۔ اور ہاں کوئی چلاکی کرنے کی کو شش مت کرنا ۔کیونکہ ہم نے تم کو کل صبح بحفاظت تمہاری ماں کے حوالے کرنا ہے۔ ہم رات کو تمہارے پاس آئیں گے اور اپنی ایک ایک پائی وصول کریں گے۔ یہ کہتے ہوۓ ایک آدی نے میری گال پر چٹکی کاٹی اور قہقہ لگا کر کمرے سے نکل کے گئے ۔جاتے ہوۓ دروازہ باہر سے لاک کر گئے۔

میں بیڈ پر لیٹ کر کافی دیر روتی رہی مجھے اپنا انجام صاف نظر آ رہا تھا ۔بھلے میں نے غربت میں بچپن گزارا تھا لیکن میری ماں نے مجھے ہمیشہ عزت سے جینا سکھایا تھا ۔مغرب کی اذان کی آواز کانوں میں پڑی تو میں نے اٹھ کر کمرے کی کھڑکی کھولی تازہ ہوا اندر آئی۔ تو میری گھبراہٹ کچھ کم ہوئی دیوار سے باہر بہت بڑا درخت تھا۔ اس کی بڑی بڑی شاخیں کھڑکی تک آئی ہوئی تھیں ۔اور ہوا سے جھوم رہی تھیں میری سوچیں بچپن میں چلی گئی۔

ہمارے صحن میں بھی ایک بڑا رخت ہوا کرتا تھا ۔

اس پر چڑھ کرمیں سارا دن کھیلتی رہتی اور اس کی شاخوں سے جھولتی اور کئی بار گرتی ماں کے منع کرنے کے باوجود پھر اس درخت پر چڑھ جاتی تھی۔ اچانک ایک خیال میرے دماغ میں آیا مجھے لگا کہ یہ درخت میری عزت بچا سکتا ہے۔ میں نے فورا کھڑکی تک آئی بڑی بڑی شاخوں کا جائزہ لیا یہ شاخیں آسانی سے میرا وزن برداشت کر سکتی تھیں۔ میں نے ایک مضبوط شاخ کو پکڑا اور اس کے سہارے میں نیچے لٹک گئی۔

جب میرے پاؤں ایک مضبوط شاخ پر جم گئے۔ تو میں نے دونوں ہاتھ چھوڑ دیے اگلے پانچ منٹ میں سڑک پرکھڑی تھی۔ میں نے آس پاس دیکھا اور ایک طرف کو دوڑ لگادی تھوڑا ہی آگے مجھے ٹرین کی پٹری نظر آئی میں سیدھی چلتی ہوئی ٹرین کی پٹری پر پہنچ گئی ۔اور ایک انجانی سمت کی طرف چل پڑی اچانک مجھے پیچھے سے آتی ٹرین کا ہارن سنائی دیا۔ ٹرین ڈرائیور بار بار ہارن دے رہا تھا ۔میں نے فورا فیصلہ کر لیا کہ میں زندہ رہی تو جگہ جگہ پر مجھے جسم کے بھوکے درندے نوچ کر کھا جائیں گے۔ اور بار بار مرنے سے بہتر ہے کہ ” ایک بار ہی مر جاؤں۔

میں سر جھکا کر چلتی رہی موت لمحہ بالمحہ میرے قریب آتی جارہی تھی۔

اچانک کسی نے میرا بازو پکڑا اور مجھے اپنی طرف کھینچ لیا اس وقت ٹرین شور مچاتی میرے پاس سے گزر گئی ۔جس شخص نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے مرنے سے بچایا تھا ۔اس نے مجھے اپنی باہوں میں اٹھایا اور مجھے ایک انجان جگہ پر لے گیا۔ میں نے خود کو چھڑانے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام ہو گئی اس نے مجھے زمیں پر گرایا اور میرے ساتھ ، چھیٹر چھاڑ کرنی شروع کر دی میں چیختی رہی ہے۔

لیکن میری مدد کو کوئی نہیں آیا۔ پورا ایک گھنٹہ اس نے میرے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی اس نے وہ سب کچھ میرے ساتھ کر ڈالا جس کا مجھے ڈر تھا۔ اچانک ایک آدمی آیا اور اس نے مجھے اس درندرے سے بچایا اور مجھے قریبی پولیس اسٹیشن میں لے گیا ۔میری ساری کہانی سن کر تھانے دار نے کسی کو کال کی تو ایک عورت اور ایک مرد پولیس اسٹیشن پہنچ آئے ضروری کاروائی کے بعد وہ مجھے کار میں بیٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔

یہ میرے جیسی بے سہارا اور ستائی ہوئی لڑکیوں کے تحفظ کا ایک بڑا ادارہ تھا ۔جہاں مجھے باعزت دو وقت کا کھانا ملنے لگامیں نے اپنے ادھوری تعلیم دو بارہ شروع کی اور کچھ عرصہ کے بعد اپنی محنت کے بل بوتے پر اس ادارے کی سربراہ بن گئی۔ آج میں اپنے جیسی بے سہارا عورتوں کو سہارا دیتی ہوں اور ان کی ہمت بنتی ہیں۔ اور آپ لوگوں سے گزارش کرتی ہوں حالات جیسے بھی ہوں ان کا مقابلہ کرو کیونکہ اس میں انسان کی بہتری ہے۔

بدکار ساس کا انجام – Buri saas ka bura anjaam ik sachi urdu kahani

✭ نوٹ :- عمدہ قسم کے سبق آموز واقعات وحکایات کیلئے آج ہی ہمارا ٹیلی گرام چینل جوائن کریں۔

 نوٹ :- ایسے ہی دل کو موہ لینے والے اور دل کو چھو لینے والے واقعات و حکایات پڑھنے کے لئے روز ویب سائٹ کا وزٹ کریں۔ اور اپنے دوست و احباب اور متعلقین کو بھی شیئر کریں تاکہ آپ کے ذریعے ان کا بھی فائدہ ہو ۔

Leave a Comment